بنگلورو20؍ستمبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کو آج کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں اس وقت ایک اور زبردست جھٹکا لگا جب مرکزی حکومت کی طرف سے قائم کاویری نگرانی کمیٹی نے ریاست میں پانی کی قلت کے متعلق حقائق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ 21 تا30 ستمبر کاویری سے تملناڈو کو روزانہ تین ہزار کیوسک پانی جاری کرنے کی ہدایت دے دی ۔ حالانکہ وزیراعلیٰ سدرامیا نے پہلے ہی واضح کردیا تھاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے پانی فراہم کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس کے باوجود کمیٹی نے ریاستی حکومت کے استدلال کو نظر انداز کرتے ہوئے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ کمیٹی کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ریاستی وزیر آبی وسائل ایم بی پاٹل نے دہلی میں بتایا کہ کرناٹک کی طرف سے چیف سکریٹری اروند جادھو نے ریاست میں پانی کی قلت کا حوالہ دے کر کمیٹی کو یہ باور کروایا کہ تملناڈو کو مزید پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے باوجود بھی کمیٹی نے پتہ نہیں کن وجوہات کی بنیاد پر تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کاویری نگرانی کمیٹی کے چیرمین مرکزی محکمۂ آبی وسائل کے سکریٹری ششی شیکھر نے یہ حکم صادر کیا ہے کہ کرناٹک تملناڈو کو مزید دس دنوں کیلئے روزانہ تین ہزار کیوسک پانی جو مجموعی طور پر 2.72 ٹی ایم سی فیٹ ہوگا جاری کرنا شروع کرے۔ اس دوران کمیٹی کے فیصلے کے ساتھ ہی کاویری طاس کے علاقوں میں دوبارہ احتجاج کی لہر چل پڑی۔ منڈیا میں کسانوں نے بنگلور میسور شاہراہ روک دی اور راستہ روکو احتجاج شروع کردیا۔کمیٹی کی طرف سے اس طرح کے فیصلے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی طرف سے کاویری طاس کے علاقوں میں معقول پولیس بندوبست کیا جاچکا ہے۔ آج ہی سے کرناٹک تملناڈو سرحدوں کو بند کردیا گیا ،تاکہ سرحدوں کے آس پاس آنے والے علاقوں میں کسی طرح کے ناخوشگوار واقعات نہ پیش آئیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے جہاں کمیٹی کی طرف سے دوبارہ پانی فراہم کرنے ریاستی حکومت کو دی گئی ہدایت کو افسوسناک قرار دیا تو دوسری طرف اب ان پارٹیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی حال میں تملناڈو کو پانی فراہم نہ کیا جائے، ضرورت پڑنے پر وزیر اعلیٰ سدرامیا اگر عہدہ سے استعفیٰ دیں گے تو اپوزیشن اراکین بھی ان کے ساتھ استعفے پیش کرنے تیار ہیں۔ ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے بارہا کرناٹک کے ساتھ سپریم کورٹ اور کاویری نگرانی کمیٹی کی طرف سے ہورہی ناانصافی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ کسی بھی حال میں کاویری سے پانی تملناڈو کو فراہم نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ تملناڈو نے کاویری نگرانی کمیٹی پر اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ اپنے حق میں کروالیا ہے۔ مگر حکومت کرناٹک اس فیصلے کو ہر گز تسلیم نہ کرے۔ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے بھی نگرانی کمیٹی کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس معاملے میں کل پھر سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ہی وہ اپنا ردعمل ظاہر کریں گے۔ سابق وزیر اعظم اور ریاستی جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے کہاکہ کاویری نگرانی کمیٹی کے چیرمین ششی شیکھر کا تعلق تملناڈو سے ہے۔ انہوں نے پہلے ہی یہ شبہ ظاہر کیاتھاکہ فیصلہ کرناٹک کے حق میں نہیں ہوگا۔ ریاستی حکومت کو چاہئے تھا کہ مرکزی حکومت کو باور کراتی کہ ایک فریق ریاست سے وابستہ اس کمیٹی کے چیرمین ہیں اسی لئے اس فیصلے کو ماننے کی حکومت پابند نہیں ہوسکتی۔ کمار سوامی نے کہاکہ ریاستی حکومت سپریم کورٹ اور کاویری نگرانی کمیٹی میں کرناٹک کے مفادات کی پیروی کرنے میں پوری طرح ناکام ہوئی ہے۔ اس دوران ریاستی حکومت کی طرف سے آج کمیٹی کو بتایا گیا کہ پچھلے دو سال سے کاویری طاس میں بہت کم بارش کے سبب پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رواں سال کاویری طاس میں 34 فیصد بارش کم ہوئی ہے۔ کمیٹی نے یہ تسلیم کیا کہ تملناڈو کو پانی فراہم کردئے جانے سے کرناٹک کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کے باوجود یہ ہدایت دی کہ فی الوقت تملناڈو کو روزانہ تین ہزار کیوسک پانی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔